نئی دہلی،یکم اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کے گھر پر جس طرح سے ناراض کانگریسی کارکنان نے حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی اس کے خلاف اب کانگریس کے اندر ہی آواز بلند کی جا رہی ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈران کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان فوری طور پر کارروائی کرے ۔ساتھ ہی پولیس سے بھی اپیل کی جارہی ہے کہ وہ حملہ کرنے والے کارکنان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ اس سلسلے میں راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ سن کر میں حیران ہوں کہ کپل سبل کے گھر پر حملہ کیا گیا ، یہ غنڈہ گردی ہے جس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے ۔ انہوں نےکہاکہ اظہار رائے کی آزادی کو قائم رکھنے کی کانگریس کی تاریخ رہی ہے۔ تشدد کانگریس کے دستور اور تہذیب سے بالکل الگ ہے ۔ آنند شرما کے مطابق جن لوگوں نے حملہ کیا ہے ان کی شناخت کی جانی چاہئے اور انھیں سبق سکھایا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور جو لوگ بھی اس میں شامل ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں ۔
آنند شرما کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی ٹویٹ کرکے اس حملے کی مذ مت کی اور اسے غنڈہ گردی قرار دیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ شرمناک حرکت ہے ۔ ہم کپل سبل کو پکے کانگریسی کے طور پر جانتے ہیں جنھوں نے کانگریس کی جانب سے کئی مقدمات لڑے ہیں ۔ اس کپل سبل کی گاڑی لوگوں نے توڑ دی ،اس کے گھر کی چھت پر کھڑے ہو گئے ،جس سے وہ دھنس گئی ،گھر کے اندر ٹماٹر پھینکے گئے ۔ یہ غنڈہ گردی نہیں تو کیا ہے ؟ کانگریس کے پنجاب سے رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کپل سبل کے گھر پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ آخر یہ کپل سبل کے گھر کیا ہو ا ؟ ان کی کارتوڑ دی گئی ، گھر پر ٹماٹر پھینکے گئے۔ ایسے عناصر کیخلاف کارروائی بہت ضروری ہے۔ ان کے بعد پرینکا گاندھی کے سیاسی مشیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم نے بھی کپل سبل کی حمایت کرتے ہوئے ان کے گھر پر ہوئے حملے کی مذمت کی ۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کانگریس کے سینئر رکن کپل سبل کے گھر پر توڑ پھوڑ کانگریس کی تہذیب اور روایات کے خلاف ہے ،داخلی جمہوریت ہماری پارٹی کی سب سے بڑی طاقت ہے ،نظریاتی فرق کی بنیاد پر کسی طرح کے تشدد کی حمایت نہیں کی جا سکتی اس لیے کانگریس کی قیادت کو فوری پر توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا کہ سبل کے گھر پر حملہ مخالف پارٹی کے لوگ بھی کرواسکتے ہیں کیوں کہ اس سے کانگریس مزید کمزور ہوگی ۔
واضح رہے کہ آنند شرما اور منیش تیواری ان ۲۳؍ لیڈران میں شامل ہیں جو پارٹی میں اصلاحات چاہتے ہیں اور اس کے لئے پارٹی قیادت کو خط لکھ چکے ہیںلیکن آچاریہ پرمود کرشنم ان سے الگ ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز کپل سبل نے اپنی رہائش گاہ پر خصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس کی قیادت پر سوال اٹھائے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس میں اس وقت کوئی منتخب صدر نہیں ہے اور کانگریس میں کون فیصلے کر رہا ہے سب کو معلوم ہے ۔ان کا اشارہ راہل گاندھی کی طرف تھا ۔ اس کے ساتھ ہی سبل نے کہا تھا کہ جو قریبی سمجھے جا رہے تھے وہ سب کانگریس چھوڑ کر جا رہے ہیں لیکن جن کو دور تصور کیا گیا وہ آج بھی ہیں اور رہیں گے ۔ انھوں نے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی سے مطالبہ کیا تھا کہ جلد از جلد مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ اس میں کھل کر بات چیت ہو سکے اور یہ سارے مسائل حل ہو سکیں ۔کپل سبل نے کہا تھا کہ ہم جی ۲۳؍ والے ہیں جی حضوری والے نہیں ہیں۔وہ پنجاب میں جاری سیاسی اتھل پتھل پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے ۔ اسی بات کو لیکر گزشتہ روز کانگریس کے کارکنان نے مبینہ طور پر سبل کے گھر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پھر توڑ پھوڑ بھی کی ۔